ابنا: یوکیا آمانو جنھوں نے ایجنسی کے سیکریٹری کی حیثیت سے گذشتہ دنوں ایران کا پہلا دورہ کیا تھا اعلان کیا کہ آیندہ جمعہ کو ویانامیں ایران کے نمایندہ دفتر میں ایجنسی کے نائب سیکریٹری جنرل اور ایران کے نمایندے علی اصغر سلطانیہ کے ساتھ مذاکرات ہوں گے ۔ایران کی سولہ اور دس ذیلی ایٹمی سائٹوں کے بارے میں انجام پانی والی مکمل تحقیقات کے سلسلے میں یوکیا آمانو کی تازہ رپورٹ کاگذشتہ روز پیر کوگورنرز آف بورڈ کے اجلاس میں جائزہ لیاگیا جو ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر ایٹمی ایجنسی کی مکمل نگرانی اورایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کا ثبوت ہیں۔ ایران اور ایجنسی کے درمیان نئے دور کے مذاکرات میں باقی ماندہ فنی مسائل کے بارے میں گفتگو کی جائے گی ۔
یہ مسئل اتنے پیچیدہ نہیں ہیں جو ایران اور ایجنسی کے درمیان اتفاق کی راہ میں رکاوٹ بنیں ۔ایسی صورت میں اس گفتگو کے نتائج کا ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے جامع مذاکرات پر ضرور اثر پڑے گا۔ ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان پندرہ ماہ کے وقفہ کے بعد رواں سال میں چودہ اپریل کو استنبول میں پھر سے مثبت ماحول میں مذاکرات کاآغاز ہوا ۔
اس کے بعد بغداد میں دوسرے دور کے مذاکرات ہوئے اور اب دو ہفتہ سے بھی کم عرصے کے اندر ماسکو میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں ۔ اس اجلاس میں فریقین کی طرف سے پیش کی گئیں تجاویز کا تفصیلی طور پر جائزہ لیا جائےگا۔ بغداد مذاکرات میں جزئی مسائل کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا تاکہ مشترک نکات کو مبنی ومحور قرار دے کرکام کیا جاسکے ۔
اس نظریے کے مطابق مبصرین نےایران اور ایجنسی کے درمیان نئے اور باہمی اتفاق کے دائرے میں مذاکرات کی اہمیت کا جائز ہ لیا ہے ۔ایران اور ایجنسی کے حکام نے کہا ہے کہ ا نھوں نےویانا میں مثبت انداز میں گفتگو کی ہے۔ اس عمل سے پتہ چلتا ہے کہ فریقین کا ہدف ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق باقی ماندہ مسائل کو باہمی اتفاق کے ساتھ حل کیا جائے ۔
ایران اور ایجنسی کے درمیان اس سے قبل بھی اس طرح کے مذاکرات ہوچکے ہیں جس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ طرفین آپس میں تعاون کے لئے گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور اس مشترک ہدف کے مد مقابل بعض مغربی حلقے اس مثبت ماحول کو خراب کر نا چاہتے ہیں اسی لئے وہ ایران اور ایجنسی کے درمیان ہونے والے بامقصد مذاکرات کو شکوک وشبہات سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہيں ۔ایران اور ایجنسی کے مابین مذاکرات کی اہمیت کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جامع مذاکرات کا تیسرا دور عنقریب ماسکو میں منعقد ہونے والا ہے ۔مبصرین کے مطابق دو عامل ایسے ہیں جو مذاکرات کی راہ کو کم اور طرفین کے لئے قابل قبول اور نتیجہ بخش ہوسکتے ہیں ۔
پہلا عامل ایجنسی کےمطالبات کا صاف وشفاف ہونا اور این پی ٹی معاہدے کے مطابق تعاون کی مشخص تعریف ہے ۔اس لئے کہ ایران نےاس سے قبل بھی ایجنسی کے مطالبات کے مطابق ایران کےفوجی مرکز پار چین کا معائنہ کرانے میں ایجنسی کے ساتھ تعاون کرچکا ہے جبکہ این پی ٹی معاہدے اور ایجنسی کے قوانین کے مطابق فوجی مرکز پار چین کا معائنہ کرانا ایران کی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اس وقت بھی طرفین کے اتفاق کے ساتھ ایران اس فوجی مرکز کا معائنہ کرانے کے لئے تیار ہے ۔جس سے پتہ چلتاہے کہ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں کے پر امن ہونے کے بارے میں مطئمن ہے جس کی وجہ سے وہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔
لیکن دوسرا عامل یہ ہےکہ مغرب ایران کااعتماد حاصل کرے اور اپنی نیک نیتی کو ثابت کرے ۔اس لئے کہ اس سےقبل بھی اس اصل سےدور ہونے کے سبب مغربی ذرائع ابلاغ نےبغیر کسی ثبوت و مدرک کے ایران کے خلاف کافی پروپیگنڈا کیا کہ ایران میں خفیہ ایٹمی مرکز کا انکشاف ہوا ہے اوران غلط اور بے بنیاد رپورٹوں کی بنیاد پر ایجنسی نے بھی بغیر ثبوت کی رپورٹیں شائع کردیں جس نےعملی طور پر مذاکرات کو متائثر کردیاہے ۔
اس وقت ایران اور ایجنسی کے مثبت نظریات کے پیش نظر اس بات کی توقع اور امید ہے کہ ویانا میں جمعہ کے دن ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ مثبت نکلے ۔بہرحال ایران ،ایجنسی اور گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کی بنیاد این پی ٹی معاہدہ اور ایجنسی کا دستور العمل ہے جس کے مطابق ملت ایران کےایٹمی حقوق کے بارے میں کسی قسم دباؤ قابل قبول نہيں ہے اس لئے کہ ایران این پی ٹی معاہدہ پر دستخط کرچکا ہے اور صرف این پی ٹی معاھدے کے دائرے میں مذاکرات کرے گا۔.......
/169